اردو

منافق اور مومن کی پہچان

تحریر: عبد الرازق
منافق کی پہچان:

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

سورۃ البقرۃ - سورۃ: ۲، آیت ۲۰۴ - ۲۰۶

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو بظاہر تو اپنی بات کو بہت بناوٹ کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور دوسروں کے سامنے بھی اپنے ایمان اور اللہ و رسولؐ سے دلی محبت کا اظہار کرتے ہیں مگر اس سب کے پیچھے ان کے ذاتی مقاصد چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے ایسے ہر فعل سے صرف دنیا میں نام و شہرت حاصل کرنا اور ظاہر میں صرف اللہ و رسولؐ سے محبت کا دعویٰ کرنا ہی مقصود ہوتا ہے۔ جب ایسے لوگ ایمان والوں کی مجالس سے دور ہوتے ہیں تو پھر یہی لوگ زمین میں فساد پیدا کر دیتے ہیں اور ناحق دوسروں کو قتل کرتے ہیں اور کسی کی کھیتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر تو اپنا ایمان چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اللہ تو دلوں کے بھید کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ جیسے ایک دوسری جگہ سورۃ المنافقون کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"منافق تیرے پاس آکر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں۔"

سورۃ المنافقون - سورۃ: ۶۳، آیت: ۱

اور سورۃ النساء آیت ۱۰۸ میں ہے:

"لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے اور وہ انکے ساتھ ہے جبکہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے"۔

سورۃ النساء - سورۃ: ۴، آیت: ۱۰۸

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہیں کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے۔ اور اگر کبھی ان کی اصلاح کے لئے ان کو حق بات بتلا کر اللہ سے ڈرایا بھی جائے اور وعظ و نصیحت کی جائے تو یہ بجائے اُس کو سمجھ کر ماننے کے اور اُس پر عمل کرنے کے، مزید اپنی ضد اور غصے کا اظہار کرتے ہیں اور مخالفت کے جوش میں مزید گناہوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسوں کے بارے میں واضع کر دیا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جن کا ایمان بھی صرف دکھلاوے کے لئے ہو اور زمین پر بھی فساد کرتے پھریں، بالکل پسند نہیں کرتا اور اِن کا ٹھکانا صرف دوزخ ہے۔

مومن کی پہچان:

"اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے کہ بیچتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا جوئی میں اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر."

سورۃ البقرۃ - سورۃ: ۲، آیت: ۲۰۷

اُس کے برعکس اس آیت میں اللہ تعالٰی ایک ایسے مومن شخص کا تذکرہ کرتے ہیں جو اپنا مال، اپنی جان سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہی ہوتا ہے۔ ایسوں کے لئے اللہ تعالیٰ بھی اپنے کرم اور مہربانی کا معاملہ فرما کر ان کو جنت عطا کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور جگہ سورۃ التوبہ آیت ۱۱۱ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اور مال خرید لئے ہیں اور ان کے بدلے جنت دے دی ہے یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور شہید بھی ہوتے ہیں اللہ تعالٰی کا یہ سچا عہد توراۃ، انجیل اور قرآن میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچے عہد والا اور کون ہوگا، تم اے ایماندارو اس خرید فروخت اور ادلے بدلے سے خوش ہو جاؤ یہی بڑی کامیابی ہے"۔

سورۃ التوبۃ - سورۃ: ۹، آیت: ۱۱۱

یہ آیت دراصل حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنی چاہی تو کافروں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں مال لے کر نہیں جانے دیں گے اگر تم مال چھوڑ کر جانا چاہتے ہو تو تمہیں اختیار ہے۔ آپ نے سب مال سے علیحدگی کر لی اور کفار نے اس پر قبضہ کر لیا اور آپ نے ہجرت کی جس پر یہ آیت اتری۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت آپ کے استقبال کے لئے حِرہ تک آئے اور مبارکبادیاں دیں کہ آپ نے بڑا اچھا بیوپار کیا بڑے نفع کی تجارت کی۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے اللہ تعالٰی آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان والی نہ کرے آخر بتاؤ تو یہ مبارکبادیاں کیا ہیں۔ ان بزرگوں نے فرمایا آپ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی۔ قریش نے ان سے کہا تھا کہ جب آپ مکہ میں آئے آپ کے پاس مال نہ تھا یہ سب مال یہیں کمایا اب اس مال کو لے کر ہم جانے نہ دیں گے چنانچہ آپ نے مال کو چھوڑا اور دین لے کر خدمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو گئے۔

صحیح حدیث میں ہے:

"ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر"۔

ایک اور حدیث میں ہے:

"انسان کہتا رہتا میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہو چکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہو گیا، ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا۔ اس کے سوا جو کچھ باقی ہے اسے تو دوسروں کے لئے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا"۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

"دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو، دنیا کے لئے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو"۔

مسند احمد

نوٹ: اس سائٹ پر تمام مضامین دعوتی مقاصد کے لئے ہیں اور Glare of Islam کے پیشہ ور افراد یا مضمون نگاروں کی طرف سے تحریر، ترمیم یا ترجمہ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ ان مضامین کی نقل کرتے ہیں تو براہِ مہربانی اس سائٹ/صفحہ کا بیک لنک (Backlink) بھی دیں۔