اردو

دلوں کی سختی کی وجہ

ترمیم: عبد الرازق

"پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں۔"

سورۃ البقرہ۔ سورۃ: ۲، آیت: ۷۴

آج دلوں میں سختی آگئی ہے، نرمی ختم ہوگئی ہے، لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں، ان میں خدا ترسی ختم سی ہوگئی ہے، لوگ آج غصے کا اظہار حد سے تجاوز کرکے کرنے لگے ہیں۔ لیکن کچھ دل والے ایسے بھی ہیں جن کی آنکھیں کسی کو تکلیف میں دیکھ کر بھر آتی ہیں۔ جن کے دل لوگوں کی مدد کے لیے بےچین ہوجاتے ہیں، وہ اپنی ضرورتوں کو دوسروں کی ضرورتوں پر قربان کر دیتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالٰی نے آیت میں انسان کے دل کی مختلف حالتوں کا بیان کیا ہے۔ اہلِ علم نے قرآن کریم کی آیات طیبہ کی روشنی میں دل کی تین اقسام بیان کی ہیں:

۱) قلبِ سلیم:
وہ دل جو اطاعت شعار اور پاک دل ہو، اللہ تعالٰی نے سورۃ الشعراء میں فرمایا:

"جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے۔ ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)۔"

سورۃ الشّعراء۔ سورۃ: ۲۶، آیت: ۸۸ - ۸۹

بہرحال قلب سلیم وہ پاک اور صحیح دل ہے جو کسی بھی پہلو سے غیر اللہ کی شرکت سے پاک ہو، اس کی عبادت و بندگی اللہ کے لئے خالص ہو اور اس کا عمل بھی اللہ ہی کے لئے خالص ہو چنانچہ وہ اگر کسی سے محبت کرے تو اللہ کے لئے کرے۔

۲) مردہ دل:
یہ قلب سلیم کے برعکس ہوتا ہے اور یہ وہ دل ہے جو نہ اپنے رب کو پہچانتا ہے اور نہ اس کے حکم کو جانتا ہے بلکہ اپنی خواہشات و لذات کے پیچھے پڑا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اگر کسی شخص سے محبت یا نفرت کرتا ہے تو اپنے نفس کے لئے، اگر کسی کو دیتا ہے تو اپنے نفس کے لئے اور اگر اپنا ہاتھ روکتا ہے تو اپنے نفس کے لئے روکتا ہے، غرض نفس ہی اس کا امام، خواہش اس کا قائد، جہالت اس کی رہنما اور غفلت اس کی سواری ہوتی ہے۔ ایسے مردہ دل سے اللہ کی پناہ چاہنی چاہیے۔
۳) بیمار دل:
یہ ایسا دل ہے جس میں زندگی تو ہے لیکن اس میں بیماری بھی ہے، یعنی اس میں (زندگی اور بیماری کے) دو مادے ہوتے ہیں کبھی پہلا مادہ اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور کبھی دوسرا مادہ، پھر دونوں مادوں میں سے جو مادہ بھی اس پر غالب آجاتا ہے دل اس کا ہوجاتا ہے۔ اس دل کے اندر اللہ تعالٰی کی محبت، اللہ کے لئے اخلاص اور اللہ پر توکل کا پہلو موجود ہوتا ہے جو اس کی زندگی کا مادہ ہے اور اس کے اندر نفسانی خواہشات کی پیروی، ریاکاری، حسد، تکبر، خود پسندی، ریاست و سیادت کے ذریعے فساد فی الارض اور بخل و کنجوسی کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے جو اس کی ہلاکت و بربادی کا مادہ ہے۔ ایسے دل سے بھی اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ قرآنِ کریم میں دل کی تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے، چنانچہ سورۂ یونس میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:

"لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔"

سورۃ یونس۔ سورۃ: ۱۰، آیت: ۵۷

اسی طرح

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے اسی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے۔ صحابہؓ نے سوال کیا: اے اللہ کے رسولؐ دل کے زنگ کو اتارنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: موت کو یاد کرنا اور قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنا۔

حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ چار چیزیں بدبختی اور شقاوت کی ہیں: خوف اللہ سے آنکھوں سے آنسو نہ بہنا، دل کا سخت ہو جانا، امیدوں کا بڑھ جانا، لالچی بن جانا۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نوٹ: اس سائٹ پر تمام مضامین دعوتی مقاصد کے لئے ہیں اور Glare of Islam کے پیشہ ور افراد یا مضمون نگاروں کی طرف سے تحریر، ترمیم یا ترجمہ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ ان مضامین کی نقل کرتے ہیں تو براہِ مہربانی اس سائٹ/صفحہ کا بیک لنک (Backlink) بھی دیں۔