اردو

اور (اے محمدؐ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے۔

سورۃ الرّعد - سورۃ: ۱۳، آیت: ۳۸

اسلام کی مختصر تاریخ

مترجم: بنتِ ہاشمی

اسلام کے لغوی معنی امن، اپنی خواہشات کی قربانی دینے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ کی رضا کیلئے اپنے نفس کی قربانی اور اس کی خوشی کیلئے اپنی خوشیوں کی قربانی دی جائے۔ اسلام کا پیغام ۱۴۰۰ سال قبل آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوا تھا۔ یہ پیغام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوا تھا اور اسے قران مجید کی شکل میں محفوظ کیا گیا۔ اللہ کی جانب سے قرآن مجید میں تحریف نہ ہونے کی ضمانت دی گئی ہے اوراس کا دعوی ہے کہ اس میں، اس سے قبل آنے والے صحیفوں کی بہترین خوبیاں موجود ہیں۔

اسلام کا اولین پیغام اللہ کی وحدانیت ہے جس کے مطابق اس کائنات کا خالق ایک ہی ہے اور وہی تن تنہا عبادت کے لائق ہے اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے غلام اور اس کے پیغمبر ہیں۔ اس پیغام پر یقین رکھنے والا مسلمان کہلاتا ہے۔ مسلمان کے دیگر عقائد میں اللہ کے فرشتوں، پہلے آنے والی کتابوں، حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسٰیؑ تک آنے والے تمام پیغمبروں، روزِ قیامت پر ایمان اور اللہ کے احکامات کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ ایک مسلمان کے ذمہ پانچ اہم فرائض ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں: اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کی گواہی دینا، نماز پڑھنا، زکوۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا اور مکہ جاکے حج کرنا۔

اسلام اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہر شخص معصوم پیدا ہوا ہے۔ قرآن پاک ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو نیکی اور بدی کے درمیان انتخاب کی آزادی دی ہے اور خدا کی خوشنودی ایمان، نماز اورصدقات سے حاصل ہوتی ہے۔ اسلام اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنا پرتو بنایا ہے اور صفات الہٰیہ کو ممکنہ حد تک اپنا کر اس کی قربت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسلام کا بنیادی پیغام اللہ کی عبادت اور خدا کی تخلیق کردہ تمام مخلوقات سے رحمدلی اور ہمدردی کا سلوک کرنا ہے۔ بوڑھے والدین، یتیموں اور ضرورت مندوں کے حقوق بھی واضح طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی ضمانت ۱۴۰۰ سال پہلے اس وقت دی گئی جب باقی کی دنیا آزادی کے حوالے سے جہالت کے اندھیروں میں گم تھی۔ اسلامی تعلیمات ہر قسم کے ممکنہ حالات کا احاطہ کرتی ہیں اور اس کے قوانین اور اصول صحیح معنوں میں آفاقی اور وقت کی کسوٹی پر پرکھے جاچکے ہیں۔

صحرائے عرب کے نخلستان میں بسے شہروں مکہ اور مدینہ میں اسلام کا پیغام برق رفتاری سے پھیلا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے محض نصف صدی بعد ہی اسلام تین براعظموں تک پھیل چکا تھا۔ اسلام، جیساکہ مغرب میں تصور کیا جاتا ہے، تلوار کا مذہب یا جنگوں کے زور پر پھیلنے والا مذہب نہیں ہے۔ ایسا صرف عرب خطے میں ہوا جہاں بتوں کی ناشائستہ انداز میں پوجا کی جاتی تھی، جس بنا پر ان قبیلوں تک جنگ کے ذریعے اسلام کا پیغام پہنچایا گیا جو اسے قبول کرنے کو تیار نہ تھے جبکہ عیسائیوں اور یہودیوں پر اسلام قبول کرنے کیلئے کوئی جبر نہیں کیا گیا۔ بیرون عرب خطوں میں بھی عرب فوجوں نے مختصر وقت میں بڑے علاقوں کو فتح کرلیا اور وہاں تلوار کے زور پر نہیں بلکہ نئے مذہب کی کشش کی بنا پر جلد ہی اسلام پھیل گیا۔ دراصل یہ ایک خدا پر ایمان اوراس کی رحمدلی پر زوردیئے جانے کا اثر تھا کہ لوگوں کی بڑی تعداد اسلام کے دامن میں سمٹ آئی۔ اس نئے مذہب نے لوگوں سے اسے قبول کروانے کیلئے کوئی زور زبردستی نہ کی۔ بہت سے لوگوں نے عیسائی اور یہودی ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ان مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد مسلم خطوں میں رہتی ہے۔

مزید براں، اسلام کا پھیلاؤ محض ابتدائی دور میں بیرون عرب ہونے والے معجزاتی پھیلاؤ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ آئندہ صدیوں میں ترکوں نے بھی پرامن طور سے اسلام قبول کرلیا جس طرح برِصغیر اور اہلِ مالے نے قبول کیا۔ افریقہ میں بھی اسلام گزشتہ دو صدیوں کے دوران اور یورپی نوآبادیاتی نظام کے دوران پھیلا ہے۔ آج اسلام نہ صرف افریقہ میں پھل پھول رہا ہے بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی مسلمان قابل ذکر اقلیت کا روپ دھار چکے ہیں۔

نوٹ: اس سائٹ پر تمام مضامین دعوتی مقاصد کے لئے ہیں اور Glare of Islam کے پیشہ ور افراد یا مضمون نگاروں کی طرف سے تحریر، ترمیم یا ترجمہ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ ان مضامین کی نقل کرتے ہیں تو براہِ مہربانی اس سائٹ/صفحہ کا بیک لنک (Backlink) بھی دیں۔